جناب موسى ابن جعفر (ع)نے نہ صرف يہ كہ علمى اعتبار سے اپنے زمانہ كے تمام دانش مندوں اور علمى شخصيتوں كو تحت الشعاع قرار دے ديا بلكہ اخلاقى فضائل اور نماياں اور امتيازى صفات كى بنا پر ہر شخص كى زبان پر آپكا نام تھا_ تمام وہ افراد جو آپ كى پر افتخار زندگى سے واقفيت ركھتے ہيں آپ كى اخلاقى عظمت اور ممتاز فضيلت كے سامنے سر تسليم خم كرتے ہيں_ابن حجر عسقلاني_ اہل سنت كے ايك بہت بڑے دانش مند اور محدث_ لكھتے ہيں كہ موسى كاظم (ع) اپنے باپ كے علوم كے وارث اور صاحب فضل و كمال تھے آپ نے جب بہت زيادہ بردبارى اور درگذر ( جو سلوك آپ نادان لوگوں كے ساتھ كرتے تھے) كا اظہار كيا تو كاظم كا لقب ملا_ آپ كے زمانہ ميں معارف علمى اور علم و سخاوت ميں كوئي بھى شخص آپ كے پايہ كو نہيں پہنچ سكا_(۱)ذیل میں آپ کے چند اخلاقی فضائل کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:الف: عبادتخدا كى خصوصى معرفت آپ كو مزيد عبادت اور پروردگار سے عاشقانہ راز و نياز كى طرف كھينچتى تھى اس وجہ سے اجتماعى كاموں سے فراغت كے بعد آپ عبادت ميں اپنا وقت گذارتے تھے_جب ہارون كے حكم سے آپ كو زندان ميں ڈال ديا گيا تو آپ نے خدا كى بارگاہ ميں عرض كيا پروردگارا مدتوں سے ميں يہ چاہتا تھا كہ تو اپنى عبادت كے لئے مجھے فرصت ديدے اب ميرى خواہش پورى ہوگئي لہذا ميں تيرا شكر ادا كرتا ہوں_جب آپ قيد خانہ ميں تھے اس وقت جب كبھى ہارون كوٹھے سے زندان كى طرف ديكھتا تھا تو يہ ديكھتاتويہى لباس كى طرح كى كوئي چيز زندان كے ايك گوشہ ميں پڑى ہے_ ايك بار اس نے پوچھ ليا كہ يہ كس كا لباس ہے؟ ربيع نے كہا: يہ لباس نہيں ہے، يہ موسى ابن جعفر (ع)ہيں جو زيادہ تر سجدہ كى حالت ہيں رہتے ہيں_ ہارون نے كہا سچ ہے وہ بنى ہاشم كے بڑے عبادت گزار افراد ميں سے ہيں_ ربيع نے پوچھا، تو پھر ان پر اتنى سختى كيوں كرتا ہے ہارون نے كہا: افسوس اس كے سوا كوئي چارہ نہيں ہے_ (۲)امام _اس دعا كو بہت پڑھتے تھے' اللہم انى اسئلك الراحة عند الموت و العفو عند الحساب'(۳) خدايا ميں تجھ سے موت كے وقت آرام اور حساب كے وقت بخشش كا طلبگار ہوں_آپ كى عبادت كو بيان كرنے كے لئے وہ جملہ كافى ہے جو ہم آپ كى زيارت ميں پڑھتے ہيں كہ ' درود ہو موسى ابن جعفر (ع)پر جو پورى رات مسلسل عبادت اور استغفار ميں گذارتے تھے، سجدہ ريز رہتے ، بہت زيادہ مناجات اور نالہ و زارى فرماتے تھے_(۴)ب_ درگذر اور بردباريامام موسى كاظم(ع)كا درگذر اور ان كى بردبارى بے نظير اور دوسروں كيلئے نمونہ عمل تھي، آپ كے لئے ' كاظم' كا لقب اسى خصلت كو بيان كرنے والا اور درگذر كى شہرت كى نشان دہى كرنيوالا ہے_مدينہ ميں ايك شخص تھا وہ ہميشہ امام كو_ دشنام اور توہين_ كے ذريعہ تكليف پہنچا تا رہتا تھا_ امام(ع) كے كچھ صحابيوں نے يہ پيشكش كى كہ اس كو درميان سے ہٹا ديا جائے_امام(ع) نے ان لوگوں كو اس كام سے منع كيا پھر اس كے بعد اس كے گھر كا پتہ پوچھ كر_ جو مدينہ سے باہر ايك كھيت ميں تھا_ تشريف لے گئے آپ(ع) چوپائے پر سوار تھے جب اس كے كھيت ميںداخل ہوئے، وہ شخص چلانے لگا كہ ہمارے كھيت كو پامال نہ كريں حضرت نے كوئي پروا نہيں كى اور سوارى ہى كى حالت ميں اس كے پاس پہنچے اور سوارى سے اترنے كے بعد اس سے ہنس كر پوچھا: اس زراعت كے لئے كتنے پيسے تم نے خرچ كئے ہيں؟ اس نے جواب ديا سو دينار_ آپ نے فرمايا : كتنے فائدے كى اميد ہے اس نے جواب ديا 'دوسو دينا' _ آپ نے اس كو تين سو دينار مرحمت فرمائے اور كہا:' زراعت بھى تيرى ہے، جس كى تو اميد لگائے ہوئے ہے خدا تجھكو اتنا ہى دے گا_ وہ شخص اٹھا اور اس نے امام(ع) موسى كاظم _كے سر كو بوسہ ديا اور اس نے اپنے گناہوں سے درگذر كرنے كى خواہش ظاہر كي_ امام مسكرائے اور پلٹ گئے ... اس كے بعد ايك دن وہ شخص مسجد ميں بيٹھا ہوا تھا كہ حضرت موسى ابن جعفر(ع) وہاں وارد ہوئے جب امام(ع) پر اس شخص كى نظر پڑى تو اس نے كہا: خدا بہتر جانتا ہے كہ اپنى رسالت كو كس خاندان ميں قرار دے_(۵) اس كے دوستوں نے اس سے تعجب سے پوچھا: كيا بات ہے؟ تم تو اس سے پہلے ان كو بہت برا بھلا كہتے تھے اس نے دوبارہ امام كے لئے دعا كى اور دوستوں سے الجھ پڑا_امام(ع) نے اپنے اصحاب سے_ جو پہلے اس كو قتل كرنے كا ارادہ ركھتے تھے_ كہا كيا بہتر ہے، تمہارى نيت يا ہمارا سلوك جو اس كو راہ راست پر لانے كا باعث بنا؟ (۶)ج_ كام اور كوششامام موسى كاظم (ع)كے پاس زراعت اور كھيتى تھى آپ خود اس كے كام ميں لگے رہتے تھے، حسن ابن علي_ آپ كے صحابى اور شاگرد_ اپنے باپ كا قول نقل كرتے ہيں ميں نے امام موسى ابن جعفر (ع) سے ان كے كھيت ميں اس حالت ميں ملاقات كى كہ وہ محنت و مشقت كى وجہ سے قدموں تك پسينے سے بھيگے ہوئے تھے_ ميں نے ان سے كہا: ميں آپ پر قربان جاؤںآپ كے آدمى (كام كرنے والے) كہاں ہيں، آپ خود كيوں مشغول ہيں؟آپ نے فرمايا: مجھ سے اور ميرے والد سے بھى زيادہ بزرگ افراد اپنے كھيت ميں كامكرتے تھے ميں نے عرض كيا وہ كون لوگ ہيں؟ آپ نے فرمايا: ميرے جد رسول خدا اور اميرالمؤمنين(ع) اور ہمارے آباء ، اس كے بعد آپ نے فرمايا: كھيتى باڑى پيغمبروں مرسلين اور صالحين كا كام ہے_(۷)د_ سخاوت و كرمجود و كرم، ساتويں امام(ع) كى صفتوں ميں سے ايك بڑى نماياں صفت تھي_ آپ نے اپنے مالى امكانات كو_ جو كھيتى باڑى كے ذريعہ آپ نے حاصل كئے تھے_ اس طرح ضرورت مندوں كے حوالہ كر ديتے تھے كہ مدينہ ميں ضرب المثل كے طور پر لوگ آپس ميں كہا كرتے تھے ' اس شخص پر تعجب ہے جس كے پاس موسى ابن جعفر (ع)كى بخشش و عطا كى تھيلى پہنچ چكى ہو ليكن وہ پھر بھى تنگ دستى كا اظہار كرے_(۸)آپ(ع) كى سخاوت و كرم كے بارے ميں ابن صباغ مالكى تحرير فرماتے ہيں: موسى كاظم _اپنے زمانہ كے لوگوں ميں سب سے زيادہ عابد، دانا اور پاك نفس شخص تھے_ آپ (ع) پيسے اور كھانے پينے كا سامان مدينہ كے ستم رسيدہ افراد تك پہنچاتے اور كسى كو خبر بھى نہيں ہوتى تھى كہ يہ چيزيں كہاں سے آئي ہيں_ مگر آپ كى رحلت كے بعد پتہ چلا_(۹)ايك شخص جس كا نام ' محمد ابن عبداللہ بكري' تھا اپنے مطالبات كو وصول كرنے كے لئے مدينہ آيا ليكن اس كو كچھ نہيں ملا_ واپسى پر امام _سے ملاقات ہوئي اس نے اپنا ماجرا آپ كو سنايا_ امام(ع) نے حكم ديا كہ اس كو تين سو دينار سے بھرى تھيلى دى جائے تا كہ وہ خالى ہاتھ اپنے وطن واپس نہ جائے_(۱۰)ھ_ تواضع اور فروتنيامام موسى ابن جعفر (ع)ايك كالے چہرہ والے كريہہ المنظر شخص كے پاس سے گذرے آپ(ع) نے اس كو سلام كيا اور اس كے پاس بيٹھ گئے اس سے باتيں كيں اور پھر اس كى حاجت پورىكرنے كے لئے اپنى آمادگى كا اظہار فرمايا آپ سے كہا گيا كہ اے فرزند رسول كيا آپ ايسے شخص كے پاس بيٹھتے ہيں اور اس كى حاجتيں پوچھتے ہيں؟آپ نے فرمايا: وہ خدا كے بندوں ميں سے ايك بندہ ہے اور خدا كى كتاب ميں وہ ايك بھائي ہے، اور خدا كے شہروں ميں وہ ہمسايہ ہے، حضرت آدم (ع) جو بہترين پدر ہيں، اس كے باپ ہيں اور آئين اسلام جو تمام دينوں ميں برترين دين ہے اس نے ہم كو اور اس كو باہم ربط ديا ہے_(۱۱)امام ؑ ہارون کے قید خانہ میںجب امام ؑ کے فضل و علم اور مکارم اخلاق مشہور ہوگئے اور ہر طرف آپ ؑ کے متعلق گفتگو ہونے لگی تو ہارون کو یہ بہت گراں گزراکیو نکہ وہ علویوں سے بہت زیادہ کینہ رکھتا تھا ،اس نے مشاہدہ کیا کہ علوی امام مو سیٰ کاظم ؑ کا بہت زیادہ احترام کر تے ہیں ہارون اس وقت مدینہ میں تھا اس نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا اور یہ کہا :اے رسول خدا (ص) میرے ماں باپ آپ فدا ہو جا ئیں میں اپنے ارادہ پر آپ ؐ سے معذرت چا ہتا ہوں ،میں مو سیٰ بن جعفر کو قید کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ،کیونکہ مجھے یہ ڈر ہے کہ کہیں آپ ؑ کی امت میں فساد برپا ہوجائے اور اُن میں خو ن خرابہ ہو ۔(۱۲)اس نے ایک سپا ہی امام کو گرفتار کر نے کیلئے روانہ کیا جب وہ امام ؑ کے پاس پہنچا تو آپ ؑ اپنے جد بزرگوار کی قبر کے پاس نماز پڑھنے میں مشغول تھے تو آپ ؑ نے نماز تمام کرنے کے بعد رسولؐ اللہ سے یوں شکایت کی :’’یارسول اللہ ﷺ میں آپ سے اس کی شکایت کر تا ہو ں ۔۔۔‘‘۔ (۱۳)امام ؑ کو بڑی ذلت و خواری کے ساتھ گرفتار کر کے ہارون کے پاس لایا گیا جب آپ ؑ اس کے سامنے پہنچے تو اُس نے آپ کو بہت بُرا بھلا کہا اور آپ ؑ کو۲۰ شوال ۱۷۹ ھ میں قیدکیاگیا۔(۱۴)بصرہ کے قید خانہ میںاس طاغوت نے امام ؑ کو بصرہ منتقل کرنے کیلئے کہا اور بصرہ کے گورنر عیسیٰ بن ابوجعفر کو قید کرنے کا حکم دیا تو آپ ؑ کو ایک گھر میں قید کردیا اور اس قید خانہ کے دروازے بند کر دئے گئے اور ان دروازوں کو صرف دو حالتوں میں کھولا جاتا تھا ایک طہارت کیلئے اور دوسرے کھانا دینے کیلئے ۔(۱۵)آپ ؑ کا عبادت میں مشغول رہناامام ؑ خدا وند عالم کی عبادت میں مشغول رہتے تھے دن میں روزہ رکھتے اور رات میں نمازیں پڑھتے، آپ ؑ نے قید خانہ میں کو ئی جزع و فزع نہیں کی ،آپ ؑ نے اللہ کی عبادت میں مشغول رہنا اللہ کی نعمت جانا ، آپ ؑ اس پر اللہ کا اس طرح شکر ادا کر تے تھے :’’خدایا ! تو جانتا ہے کہ میں تجھ سے یہ سوال کرتا تھاکہ مجھے اپنی عبادت کاکوموقع فراہم کر ،خدایا ! تو نے ایسا کردیالہٰذا تیرے لئے ہی حمد و ثناہے۔۔۔(۱۶)عیسیٰ کو امام ؑ کو قتل کرنے کے لئے روانہ کرناہارون سر کش نے بصرہ کے گورنر عیسیٰ کو امام ؑ کو قتل کرنے کا حکم دیا تو اس کو یہ بات بہت گراں گذری ،اس نے اپنے حوالیوں و مو الیوں کو بلاکر اس سلسلہ میں مشورہ کیا تو اُن سب نے اُس کو ایسا کرنے سے منع کیا اور اُس نے ہارون کو ایک خط لکھا جس میں یہ تحریر کیا کہ مجھے ایسا کرنے سے معاف کیجئے جس کا مضمون کچھ یوں ہے :موسیٰ بن جعفر ایک طولانی مد ت سے میرے قید خانہ میں ہیں اور میں تجھ کو اُن کے حالات سے آگاہ کرتا رہا ہوں ،اور میری آنکھوں نے اس طویل مدت میں امام ؑ کو عبادت کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھا ،اور جو کچھ امام ؑ اپنی دعا میں کہتے تھے وہ بھی سنا ہے، انھوں نے کبھی بھی میرے اور تیرے خلاف کو ئی بات نہیں کہی ہے اور نہ ہی کبھی برا ئی کے ساتھ یاد کیا ہے ،وہ ہمیشہ اپنے نفس کیلئے مغفرت و ر حمت کی دعا کر تے تھے آپ جس کو چا ہیں میں ان کو اس کے حوالے کردوں یا ان کو چھوڑ دوں میں ان کو قید کرنے سے پریشان ہو گیا ہوں۔(۱۷)امام ؑ کو فضل کے قید خانہ میں بھیجناہارون رشید نے عیسیٰ کو بلاکر کہا کہ امام ؑ کو بغداد میں فضل بن ربیع کے قید خانہ میں منتقل کر دیا جائے جب امام وہاں پہنچے تو اُس نے آپ ؑ کو اپنے گھر میں قید کردیاامام ؑ عبادت میں مشغول ہوگئے آپ ؑ دن میں روزہ رکھتے اور رات میں نمازیں پڑھتے تھے ،فضل امام ؑ کی عبادت کو دیکھ کر مبہوت ہو کر رہ گیا ،وہ اپنے اصحاب سے امام ؑ کے ذریعہ اللہ کی عظیم اطاعت کے بارے میں باتیں کر تا ،عبد اللہ قزوینی (جو شیعہ تھے ) سے روایت ہے : ابن ربیع فضل کے پاس پہنچا تو وہ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا ہوا تھا ، اُس نے مجھ سے کہا :میرے قریب آؤ میں اُس کے ایک دم قریب ہو گیا تو اُس نے مجھ سے کہا : گھر میں دیکھو ۔جب عبد اللہ نے گھر میں دیکھا تو اس سے فضل نے کہا :تم گھر کے اندر کیا دیکھ رہے ہو ؟میں نے کہا :میں ایک لپٹا ہوا کپڑا پڑا ہوا دیکھ رہا ہوں ۔۔۔صحیح طریقہ سے دیکھو ۔۔۔تو میں نے ایک شخص کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھ
3 جون 2013 - 19:30
News ID: 426299
باب الحوائج امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے تمام عاشقان و سوگوران اہلبیت (ع) کی خدمت تعزیت اور تسلیت عرض ہے۔